اشاعتیں

شاعری لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

وحشی اسے کہو جسے وحشت غزل سے ہے:: بشیر بدر

غزل (بشیر بدر) وحشی اسے کہو جسے وحشت غزل سے ہے انساں کی لازوال محبت، غزل سے ہے ہم اپنی ساری چاہتیں قربان کر چکے اب کیا بتائیں، کتنی محبت غزل سے ہے لفظوں کے میل جول سے کیا قربتیں بڑھیں لہجوں میں نرم نرم شرافت، غزل سے ہے اظہار کے نئے نئے اسلوب دے دیے تحریر و گفتگو میں نفاست غزل سے ہے یہ سادگی، یہ نغمگی، دل کی زبان میں وابستہ فکر و فن کی زیارت غزل سے ہے شعروں میں صوفیوں کی طریقت کا نور ہے اردو زباں میں اتنی طہارت غزل سے ہے اللہ نے نواز دیا ہے تو خوش رہو تم کیا سمجھ رہے ہو، یہ شہرت غزل سے ہے

مسدسِ بدحالی از ضمیر جعفری

سیاست کا ہر پہلواں لڑ رہا ہے یہاں لڑ رہا ہے، وہاں لڑ رہا ہے بیاں کے مقابل بیاں لڑ رہا ہے حسابِ دلِ دوستاں لڑ رہا ہے ستارہ نظر مہ جبیں لڑ رہے ہیں یہ حد ہےکہ پردہ نشیں لڑ رہے ہیں مزاجوں میں یوں لیڈری آگئی ہے کہ گھر گھر کی اپنی الگ پارٹی ہے کوئی شیر ہے تو کوئی لومڑی ہے یہی اپنی لے دے کے انڈسٹری ہے نہ منزل نہ جادہ نہ کوئی ارادہ رضا کار کمیاب، لیڈر زیادہ اگر گھر میں ہیں خیر سے چار بھائی تو اک اک نے ڈفلی الگ ہے اُٹھائی بچھی ہے سیاست کی پتلی چٹائی بہ ہر تخت پوش و بہ ہر چار پائی سلیٹی کوئی ، توتیائی ہے کوئی کوئی سرخ ہے، فاختائی ہے کوئی جلوس اور جلسے میں تکرار ان میں فساد و فتن کے نمک خوار ان میں بپا مستقل جوت پیزار ان میں ”یونہی چلتی رہتی ہے تلوار ان میں“ جو زندہ مہینہ ، مردہ مہینہ یہ کیا زندگی ہے، نہ جینا نہ مرنا ملوں، پرمٹوں، کارخانوں کے جھگڑے سیاست کے “نودولتانوں“ کے جھگڑے زبانوں، بیانوں، ترانوں کے جھگڑے فسانوں پہ ہم داستانوں کے جھگڑے سرخوان لقمہ اُٹھانے پہ جھگڑا وہ جھگڑا کہ ہر دانے دانے پہ جھگڑا حقائق کے آثار دھندلانے والے جرائد میں شہ سرخیاں پانے والے یہ ہر قول دے کر مکر جانے والے یہ ہر ”...

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد

غزل (فیض احمد فیضؔ) ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد تھے بہت بے درد لمحے ختمِ درد عشق کے تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد ان سے جو کہنے گئے تھے فیضؔ جاں صدقہ کیئے ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد بشکریہ اردو محفل

کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں

غزل (بشیر بدرؔ) کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کوخبر نہ ہو مجھے ایک رات نواز دے مگر اس کے بعد سحر نہ ہو وہ بڑا رحیم و کریم ہے تجھے یہ صفَت بھی عطا کرے تجھے بھولنے کی دعا کروں تو مری دعا میں اثر نہ ہو مرے بازوؤں میں تھکی تھکی ابھی محو خواب ہے چاندنی نہ اٹھے ستاروں کی پالکی ابھی آہٹوں کا گزر نہ ہو یہ غزل کہ جیسے ہرن کی آنکھ میں پھیلی رات کی چاندنی نہ بجھے خرابے کی روشنی کبھی بے چراغ یہ گھر نہ ہو وہ فراق ہو کہ وصال ہو تری یاد مہکے گی ایک دن وہ گلاب بن کے کھلے گا کیا جو چراغ بن کے جلا نہ ہو کبھی دھوپ دے کبھی بدلیاں دل و جاں سے دونوں قبول ہیں مگر اس نگر میں نہ قید کر جہاں زندگی کی ہوا نہ ہو کبھی دن کی دھوپ میں جھول کے کبھی شب کے پھول کو چوم کے یونہی ساتھ ساتھ چلیں سدا کبھی ختم اپنا سفر نہ ہو مرے پاس میرے حبیب آ ذرا اور دل کے قریب آ تجھے دھڑکنوں میں بسا لوں میں کہ بچھڑنے کا کبھی ڈر نہ ہو

فکرِ این و آں نے جب مجھ کو پریشاں کردیا

غزل (خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ) فکرِ این و آں نے جب مجھ کو پریشاں کردیا میں نے سر نذر جنون فتنہ ساماں کردیا ان کو تو نے کیا سے کیا شوقِ فراواں کردیا پہلے جاں پھر جانِ جاں پھر جانِ جاناں کردیا ہو چلے تھے وہ عیاں پھر ان کو پنہاں کردیا ہائے کیا اندھیر تو نے چشمِ گریاں کردیا طبعِ رنگیں نے مری گل کو گلستاں کردیا کچھ سے کچھ حسنِ نظر نے حسنِ خوباں کردیا زاہدوں کو بھی شریکِ حسنِ رنداں کردیا سینکڑوں کو دخترِ رز نے مسلماں کردیا جاں سپردِ تیر اور خوں صرف پیکاں کردیا پاس جو کچھ تھا مرے سب نذرِ مہماں کردیا دردِدل نے اور سب دردوں کا درماں کردیا عشق کی مشکل نے ہر مشکل کو آساں کردیا دل قفس میں لگ چلا تھا پھر پریشاں کردیا ہمصفیرو! تم نے کیوں ذکرِ گلستاں کردیا جب فلک نے مجھ کو محرومِ گلستاں کردیا اشکہائے خوں نے مجھکو گل بداماں کردیا یہ تری زلفیں، یہ آنکھیں، یہ ترا مکھڑا، یہ رنگ حور کو اللہ کی قدرت نے انساں کردیا ہر چہ بادا بادما کشتی درآب انداخیتم کرکے جرأت ان سے آج اظہارارماں کردیا تلخ کردی زندگی شورش تری کچھ حد بھی ہے اف...

جلوہ فرماں دیر تک دلبر رہا

غزل (خواجہ عزیزالحسن مجذوؔب) جلوہ فرماں دیر تک دلبر رہا اپنی کہہ لی سب نے میں شسدر رہا گو مرا دشمن زمانہ بھر رہا مجھ پہ فضلِ خالقِ اکبر رہا گو مرے در پے عدو اکثر رہا جو مری قسمت کا تھا مل کر رہا تاجِ زر شاہوں کے زیرِ سر رہا سر مرا خود زینتِ افسر رہا جسم بے حس بے شکن بستر رہا میں نئے انداز سے مضطر رہا میں وہاں گو بے زباں بن کر رہا دل میں اک ہنگامہء محشر رہا باغِ عالم دشت سے بڑھ کر رہا سر میں سودا  پاؤں میں چکر رہا گو وہ گل پیشِ نظر دم بھر رہا دل میں برسوں اک عجب منظر رہا میں خرابِ بادہ و ساغر رہا دل فدائے ساقئ کوثر رہا قول جو حق تھا وہی لب پر رہا حلق میرا گو تہہِ خنجر رہا میں رہا رو باغِ ہستی میں مگر بے نوا، بے آشیاں، بے پر رہا سب چمن والوں نے تو لوٹی بہار اور مجھے صیاد ہی کا ڈر رہا یاد کر بلبل کبھی وہ دن بھی تھے میں بھی تیرا ہمنوا اکثر رہا کوئی سمجھا رند ، کوئی متقی لب پہ توبہ ہاتھ میں ساغر رہا تھم رہے آنسو، رہی دل جلن نم رہیں آنکھیں کلیجہ تر رہا عمر بھر پھرتا رہا ہوں دربدر مر کے بھی چرچا مرا گھر گھر رہا سب پڑھا لکھا میں بھولا یک قلم اک سبق ہاں عشق کا ازبر رہا سینکڑوں فکریں ہیں کو ...