اشاعتیں

مضامین لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

حرف روی کی تعریف۔ ایک استفسار کا مفصل جواب۔ مزمل شیخ بسملؔ

اردو محفل پر ایک عزیز محمد اسامہ سرسریؔ صاحب نے کچھ عرصے پہلے ناچیز سے  ایک سوال کیا تھا جس کا جواب دینے میں گو کہ مصروفیات کی وجہ سے کافی دیر لگی لیکن سوال کچھ ایسا ہے کہ بنا وضاحت اور مکمل تفصیل کے میرے لئے یہ جواب دینا ممکن نہیں تھا۔ بہرحال تمام مصروفیات کے باوجود جب یہ کام سرانجام دینے میں کامیاب ہوگیا ہوں تو قارئین کی خدمت میں بھی پیش کئے دے رہا ہوں۔ سوال: جناب مزمل شیخ بسمل صاحب!  حرف روی کی جامع اور مانع تعریف کیا ہے؟ جواب:  حرفِ روی کی جامع اور مانع تعریف کے لئے اچھا خاصہ وقت لیا جس کے لیے معذرت۔ کچھ مصروفیات اور مزاجی سستی اور کاہلی اور کبھی غفلت آڑے آتی رہی۔ آج سوچا کہ اسامہ بھائی کے اس قرض کو بھی چکا دیا جائے۔ واضح رہے کہ علم قافیہ ایک خشک علم ہے، پھر ہر عالم نے اپنے تجربات اور مشاہدات اور اپنے علم کے مطابق اس میں مختلف موضوعات میں ایک سے زائد آراء قائم کی ہیں، میرا تجربہ ہے کہ اگر کوئی انسان صرف حرفِ روی کے تمام پہلو سمجھ لے تو وہ علمِ قافیہ کا مکمل عالم بن سکتا ہے اس کے بعد تمام محاسن اور معائب کھل کر خود ہی سامنے آجاتے ہیں۔ تو بسم اللہ۔

شاعر یا ناقد؟

ایک عرصۂ دراز گزر چکا اس دور کو جب استاد کا حکم ہی عزت ہوا کرتا تھا شاگرد بھی در حقیقت شاگرد ہی ہوتے تھے جن میں مہارت حاصل کرنے جذبہ تو ہوتا تھا مگر سیکھنے سکھانے پڑھنے پڑھانے کے بعد اس منزل تک پہنچنا پسند کرتے تھے، شاگرد کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو جائے استاد سے چھوٹا ہی رہتا تھا، ریاست میں سیاست تھی نہ دماغوں میں غلاظت تھی۔ جو کچھ تھا تو وہ طبیعت اور لہجے کی نفاست تھی جس سے دلوں پر قابو پایا جاتا تھا، نہ کوئی بادشاہ علماء سے کچھ پوچھ لینے کو بے عزتی محسوس کرتا تھا نہ کوئی نواب کسی استاد شاعر سے اپنی شاعری پر اصلاح لینے میں شرم محسوس کرتا تھا۔ ایسی اور اس جیسی سیکڑوں باتیں تاریخ نے تاریخ دانوں کے ہاتھوں رقم کروائی ہیں۔

رباعی کے ”دو“ اوزان

ابھی کچھ دیر پہلے ایک عزیز سے رباعی کے اوزان کے متعلق بات چل رہی تھی کہ رباعی کے چوبیس اوزان کو یاد رکھنا بڑا مشکل کام ہے اور بڑے بڑے عروضی بھی ان چوبیس اوزان کو اسی طرح لکھتے ہیں اور شاگردوں کو یاد کرواتے ہیں۔  قارئین میں جو میرا مضمون ہندی بحر کے حوالے سے پڑھ چکے ہیں انہیں کچھ عجب محسوس نہ ہوگا البتہ جو نا مانوس ہیں ان کے لئے تو یقیناً نئی چیز ہے۔ بہر حال کوئی لمبی کہانی نہیں ہے۔ 

میر کی ہندی بحر کی حقیقت

کیوں جناب؟ کچھ جانتے ہیں کہ کیا ہے ہندی بحر؟ یقیناً آپ نے یہی سن رکھا ہوگا اس بحر کے بارے میں کے اس بحر کو میرؔ نے ہندی پنگل کی بحور میں سے چن کر استعمال کیا اور اتنا استعمال کیا کہ انہیں کے نام سے منسوب ہوگئی۔ یا اکثر یہ بھی سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے کے میرؔ نے اردو میں مروجہ فارسی عروض کو بھی اپنی شاعری میں استعمال کیا اور پنگل کو بھی اپنی شناخت بنایا۔  بحر اور اس کی آزادیوں کے بارے میں بھی آپ نے یقیناً بہت کچھ سن رکھا ہوگا کہ یہ بحر مکمل اسباب خفیف پر مشتمل ہوتی ہے جس میں سے کوئی بھی سبب خفیف سبب ثقیل بنا دیا جاتا ہے۔ یا ایک چھوڑ کر ایک سب خفیف کو سبب ثقیل بنانے کی اجازت ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔