اشاعتیں

ایک شعر جو اپنے خالق کو پیچھے چھوڑ گیا۔

ادب میں بہت سی شخصیات ایسی ہیں جو باوجود اس کے کہ معمولی نہیں تھیں، منظرِ عام پر نہیں آسکیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت ان کی بھی ہے۔ زندگی کی تلخیوں پر طنزیہ انداز میں لکھنے والا شاید ان سے بڑا کوئی بھی نہیں گزرا۔ ان کا کلام گو کہ زیادہ نہیں ہے، لیکن جتنا ہے اس سے یہ اندازہ بخوبی ہوتا ہے کہ ایک قادر الکلام، جہاں دیدہ اور پختہ کار شاعر ہے۔ اور ہم میں سے تقریباً ہر شخص انہیں ان کے نام سے نہیں تو کم از کم ان کے اس شہرہ آفاق شعر سے ضرور جانتا ہے:

علمِ عروض سبق ۱۱

گزشتہ اسباق میں اب تک ہم نے مختلف بحروں کے اوزان، ارکانِ بحر، اجزائے ارکان اور دائروں سے بحریں نکالنے کے طریقے کو دیکھا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ ان چیزوں کو وقتاً فوقتاً دہراتے رہیں تاکہ جو چیزیں ہم اب تک سیکھ چکے ہیں وہ آپ کے ذہن سے نکل نہ جائیں۔ میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ بات کو آسان سے آسان طریقہ اختیار کرکے آپ تک پہنچادوں۔ ورنہ عروضیوں کا تو مشغلہ ہی یہی ہے کہ انکا قاری خاص ہوتا ہے اور وہ خاص قاری بھی بے چارہ عروضیوں کی دقیق اصطلاحات میں پھنس کر پڑھنا بند کردیتا ہے کیونکہ ان دقیق اصطلاحات کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اللہ پناہ میں رکھے اور بچائے ان عروضیوں سے۔ شکر کریں کہ یہاں نہ میں عروضی ہوں نہ آپ۔

فعولُ فعلن یا مفاعلاتن۔ ایک استفسار کے جواب میں - مزمل شیخ بسملؔ

فیس بک پر ایک عزیز کو اوزان "فعولُ فعلن" اور "مفاعلاتن" میں کچھ تردد تھا جس کے حوالے سے انہوں نے درج ذیل سوال اٹھایا۔ تو سوچا کہ اس سوال کے جواب کو اپنے بلاگ کے قارئین کی خدمت میں بھی پیش کردوں تاکہ جواب استفادۂ عام کے لیے محفوظ ہوجائے۔  سوال: ز حالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں *امير خسرو كى اس غزل كا وزن بعض عروضيوں كے نزديک "فعول فعلن فعول فعلن فعول فعلن فعول فعلن" ہے، جبكہ بعض عروضيوں كے نزديک "مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن" ہے.  مزمل بهائى، براه مہربانى اس حوالے سے رہنمائى فرمائيں كہ ١. ان دونوں اوزان كو كہاں سے اخذ يا حاصل كيا جاتا ہے؟ اور دونوں اوزان كو كيا نام ديا جاتا ہے؟ ٢. مندرجہ بالا دونوں اوزان مين عروضيوں كے اختلاف كى وجہ كيا ہے؟

علمِ عروض سبق ۱۰

پچھلے سبق میں ہم نے اجزائے ارکان یعنی سبب، وتد، فاصلہ اور ان کی اقسام کے بارے میں تفصیلی طور پر بحث کی ہے۔ ساتھ ہی عام اردو اور فارسی الفاظ کی مثالوں کو بھی دیکھا۔ اب وقت موزوں ہے کہ ہم ان اجزائے ارکان کو ارکانِ عروض کے حوالے سے سمجھیں اور ان کا استعمال بھی عروضی حوالے سے واضح کردیں۔اب ہم ارکان کے تحت ہر خاص رکن کے اجزاء کو دیکھتے ہیں۔

علمِ عَروض سبق ۹

گزشتہ اسباق میں ہم نے اجزائے ارکان، افاعیل، چند بحور اور تھوڑا بہت زحافات کو دیکھا ہے۔ اس سبق میں جس موضوع پر ہم بات کرنے والے ہیں وہ ارکان کی ساخت پر ہے۔ یعنی ہم دیکھیں گے کہ مختلف ارکان کس طرح وجود میں آرہے ہیں اور اسی لحاظ سے پھر زحافات کے اطلاق کو بھی سمجھا جائے گا۔ اس سلسلے کا اب یہ وہ مرحلہ آگیا ہے جہاں آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ علمِ عروض اور اسکے پس و پیش کو مکمل اور باضابطہ سیکھنا چاہتے ہیں یا پھر اٹکل بچو سے کام چلانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو ان اسباق کو بغور پڑھیں اور کسی بھی اشکال کی صورت میں تبصرہ خانے کا استعمال سیکھنے اور سکھانے کا بہترین ذریعہ ہے۔

اردو میں مستعمل اور مانوس بحور کی فہرست

۱) بحر ہزج i۔ مثمن سالم: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن ii۔ مثمن محذوف: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن فعولن iii۔ مثمن مقبوض: مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن iv۔ مثمن اشتر: فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن v۔ مثمن مقبوض سالم: مفاعلن مفاعیلن مفاعلن مفاعیلن vi۔ مثمن اخرب مکفوف سالم: مفعولُ مفاعیل مفاعیل مفاعیلن vii۔ مثمن اخرب سالم: مفعولُ مفاعیلن مفعولُ مفاعیلن

حرف روی کی تعریف۔ ایک استفسار کا مفصل جواب۔ مزمل شیخ بسملؔ

اردو محفل پر ایک عزیز محمد اسامہ سرسریؔ صاحب نے کچھ عرصے پہلے ناچیز سے  ایک سوال کیا تھا جس کا جواب دینے میں گو کہ مصروفیات کی وجہ سے کافی دیر لگی لیکن سوال کچھ ایسا ہے کہ بنا وضاحت اور مکمل تفصیل کے میرے لئے یہ جواب دینا ممکن نہیں تھا۔ بہرحال تمام مصروفیات کے باوجود جب یہ کام سرانجام دینے میں کامیاب ہوگیا ہوں تو قارئین کی خدمت میں بھی پیش کئے دے رہا ہوں۔ سوال: جناب مزمل شیخ بسمل صاحب!  حرف روی کی جامع اور مانع تعریف کیا ہے؟ جواب:  حرفِ روی کی جامع اور مانع تعریف کے لئے اچھا خاصہ وقت لیا جس کے لیے معذرت۔ کچھ مصروفیات اور مزاجی سستی اور کاہلی اور کبھی غفلت آڑے آتی رہی۔ آج سوچا کہ اسامہ بھائی کے اس قرض کو بھی چکا دیا جائے۔ واضح رہے کہ علم قافیہ ایک خشک علم ہے، پھر ہر عالم نے اپنے تجربات اور مشاہدات اور اپنے علم کے مطابق اس میں مختلف موضوعات میں ایک سے زائد آراء قائم کی ہیں، میرا تجربہ ہے کہ اگر کوئی انسان صرف حرفِ روی کے تمام پہلو سمجھ لے تو وہ علمِ قافیہ کا مکمل عالم بن سکتا ہے اس کے بعد تمام محاسن اور معائب کھل کر خود ہی سامنے آجاتے ہیں۔ تو بسم اللہ۔